Tuesday, January 7, 2020

ڈپریشن سے کیسے نمٹا جائے؟

          
نفسیات
                                            ڈپریشن سے کیسے نمٹا جائے؟      


                                                        ڈپریشن یا افسردگی کا عارضہ آج کے دور میں بہت عام ہوتا جارہاہے۔ہر تیسر ا فرد اس کی شکایت لیے معالجوں کی انتظارگاہوں میں بیٹھا ہوتا ہے۔ذہنی تناؤ، بھوک کی کمی،بےخوابی،تشویش،بےزاری اور مایوسی ڈپریشن کی بنیادی علامتیں ہیں۔ عام معالجوں کےپاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ مریض کی ذہنی کیفیت کا تفصیل سے جائزہ لیں، جیسے ہی ڈپریشن یا بےخوابی کا لفظ مریض کی زبان پر آتا ہے،فوراً ہی ان کا قلم کسی خواب آور دوا(ٹرنکولائزر) کا نام لکھنے لگتا ہے۔ہمارے ملک میں ماہرین نفسیات کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔اس صورتحال میں ضروری ہے کہ ہر فرد ڈپریشن سے نمٹنےکا ہنر جانتا ہو ۔ڈپریشن کا عارضہ اسباب اور نوعیت کے اعتبار سے مختلف جذباتی کیفیتوں کا احاطہ کرتا ہے۔جن میں پریشانی،خوف ،  الجھن، کوفت، صدمہ  وغیرہ             شامل                            ہیں۔ان میں سے ہر کیفیت کا سبب اور علاج مختلف ہے۔اگر آپ کو ڈپریشن کا مسئلہ در پیش ہے تو پہلے اس کی نوعیت کو سمجھیں، اس کے بعد اس کا علاج کریں۔
 
                                                                                                                                                                ذیل کے مضمون میں شہرۂ آفاق مصنف ڈیل کارینگی کی کتاب ’’ُپریشان ہونا چھوڑیے اور جینا شروع کیجیے‘‘ سے استفادہ کیا گیاہے۔
پریشانی
                                                                                                                         پریشانی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے خیا لات ادھر ادھر بکھرتے رہتے ہیں۔کبھی آپ گزرے کل کے بارے میں  سوچ سوچ کر کڑھتے ہیں اور کبھی آنے والے کل کا سوچ کر خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ماضی کی غلطیوں ، محرومیوں اور ناکامیوں کا تیر بھی آپ کے دل میں پیوست ہے اور مستقبل کی ذمہ داریوں، خطرات اور مشکلات کا بوجھ بھی آپ کے اعصاب پر  پڑا ہے۔جب جھی آپ کوئی کام کرنے بیٹھتے ہیں تو پریشان خیالات کی یلغار آپ کو مفلوج کر دیتی ہے۔ افسوس، پچھتاوے اور تفکرات آپ کا سوتے میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔  یہ سب اس وقت ہوتا ہے جب آپ بیک وقت ماضی اور مستقبل میں زندگی گزارتے ہیں۔ایک طالب علم اس بات پربھی پریشان ہوتا ہے کہ اس نے گزشتہ امتحان میں کم نمبر لیے تھے اور اس بات پر بھی کہ وہ آنے والے امتحان کیلئے بھی صحیح تیاری نہیں کر پا رہا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماضی تو آپ کے ہاتھوں سے نکل ہی چکا ، اب مستقبل بھی آپ سے دامن چھڑالیتا ہے۔اس پریشانی کا علاج یہ ہے کہ آپ ماضی اور مستقبل کو ذہن سے نکال کر اپنی تمام تر توجہ حال پر مر کوز کر دیں۔ اپنے ذہن  میں ماضی اور مستقبل کی طرف کھلنے والی کھڑکیاں بالکل بند کرکے خود کو حال کے کمرے میں مقفل کر لیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی  بحریہ کے ایک کمانڈر نے میٹنگ میں کہا :’’میں نے جنگ کیلئے بہترین آدمی اور بہترین جنگی  کشتیاں فراہم  کر دیں اور ان حا لات میں جو معقول ترین حکمت عملی ہوسکتی تھی ، وہ تیار کرکے ان کے حوالے کردی ہے۔میں بس یہی کر سکتا ہوں۔ اب اگر کوئی  کشتی ڈوب چکی  ہے ،تو میں اسے واپس سطح پر نہیں لا سکتا اور اگر کوئی کشتی  ڈوبنے والی ہے، تو میں اسے بچا نہیں سکتا۔اگر میں ان پریشانیوں میں پڑوں گا تو جنگ ختم ہو نے سے پہلے میں خود ختم ہو چکا ہوں گا۔‘‘
                                                                                                                  مثبت اور منفی سوچ میں یہی فرق ہے کہ مثبت سوچ اسباب ونتائج کا تجزیہ کرکے تعمیری منصوبہ بندی کی طرف لے جاتی ہے ، جب کہ منفی سوچ ہمیشہ پریشانی اور اعصابی شکستگی (نروس بریک ٖ ڈاؤن) کا موجب بنتی ہے۔ آپ اگر ماضی کے  کسی نقصان کی تلافی یا کسی عمل کا کفارہ ادا کر سکتے ہیں تو ضرور کیجیے، آپ کے ذہن میں مستقبل کیلئے کوئی مؤثر منصوبہ ہے تو ضرور اسے عملی جامہ پہنائیے، لیکن ماضی اور مستقبل پر پریشان ہونا چھوڑ دیجیے۔گزرے کل اور آنے والے کل کی فکر چھوڑکر اپنے آج کی طرف توجہ کیجیے۔آج کی دن ہی آپ کا مستقبل ہے۔ آنے والے وقت کے  بارے میں پہلے سے متفکر ہونا ایسے ہی ہے  جیسے آپ کسی تاریک راستے پر چلتے ہوئے ٹارچ کی ورشنی ایک قدم آگے ڈالنے کی بجائے سامنے کہیں دور پھیکنا شروع کردیں ۔ ٹارچ آپ کے کو بہت آگے کا منظر نہیں دکھا سکتی اور یوں آپ نہ تو دور دیکھ سکیں گے اور نہ چند قدم آگے موجود گڑھے سے بچ پائیں گے۔آپ  کا ذہن  ایک روشنی خانہ (لائٹ ہاؤس) ہے مگر اس کی روشنی کو ٹارچ کی طرح استعمال کریں۔ یعنی بہت دور نہیں بلکہ صرف  ایک قدم آگے! ایک مفکر کا قول ہے کہ ’’ صرف ایک دن کی بات ہو تو ہر انسان کوئی بھی مشکل سے مشکل ذمہ داری  اٹھا سکتا ہے، اگر زندگی  صرف صبح سے لے کر شام تک ہو تو ہر انسان اسے ہنسی خوشی گزار سکتا ہے۔‘‘ لہٰذا اگر آپ زندگی کو ایک ایک دن کرکے گزارنا شروع کریں گے تو پریشانی ختم ہو جائے گی اور آپ خوب بھوک کے ساتھ کھائیں گے اور بڑے سکون کے ساتھ سوئیں گے۔
خوف
                                                                                                                                  خوف وہ کیفیت ہے جس میں انسان محسوس کرتا ہے کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔ایک تاجر کو خدشہ ہوتا ہے کو کچھ ایسا رونما ہونے والا  ہے جس سے اس کا سارا کاربار ڈوب جائے گا۔ ایک ملازم کو خوف ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات سامنےآنے والی ہے  جس سے اس کی ملازمت ختم ہو جائے گی ۔ایک طالب علم کو یہ خدشہ  محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ایسا ظاہر ہونے والا ہے جس کی وجہ سے اسے سکول یا کالج سے نکال دیا جائے گا۔ایک بیوی کو اندیشہ  لاحق ہو جاتا ہے کہ کل کسی بات پر اس کے شوہر کی نظر یوں بدل جائے گی کہ اس کا گھر ہی برباد ہو جائے گا۔ایسے خوف کی کیفیت میں انسان  کھانا اور سونا بھول جاتاہے۔ خوف دل و دماغ کو بری طرح جکڑ لیتا ہے۔                 عدم تحفظ کا احساس پوری شدت سے ساتھ طاری ہوجاتاہے۔

                                                                                                                                     امریکا کی ایک تیل کمپنی کے مالک کو بھی ایسے خوف کا تجربہ ہوا۔ قانون کے مطابق تیل کمپنی کو حکومت کی طرف سےخاص مقدار میں تیل کا کوٹہ ملتا تھا جسے وہ نامزد گاہکوں کو سپلائی کرتی تھی۔ایک دن اس مالک کے دجتر میں ایک شخص آیا اور خود کو سرکاری انسپکٹر ظاہر کرکے کہنے لگا کہ ’’ہمارے پاس شواہد ہیں کہ تمھاری کمپنی کے ڈرائیور سرکاری تیل چوری کرکے اپنے من پسند گاہکوں کو دوبارہ بیچتے ہیں۔ اگر تم نے مجھےپانچ ہزار ڈالر ادا نہ کیے تو میں یہ ثبوت پولیس کے حوالے کر دوں گا۔‘‘ وہ  مالک ذاتی طور پر اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی کمپنی کے ڈرائیور ایسی کوئی حرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن وہ جانتا  تھا کہ کمپنی کا مالک ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ملازمین کے افعال کاذمہ دار ہے۔اس وجہ سےوہ  بری طرح خوف زدہ ہوگیا۔تاہم وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر اس نے یہ رقم ادا کر دی تو بھی بلیک میلنگ کا سلسلہ رکے گا نہیں اور اگر واقعی یہ ثبوت پولیس تک پہنچ گئے تو کمپنی کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔اسی شش و پنج میں وہ تین راتوں تک نہیں سو سکا۔تین دنوں تک مضطرب رہنے کے بعد آخر اس نے اپنے ذہن  کو جھٹکااور یوں سوچنے لگا:’’اگر میں اس شخص کو رقم دینے سے انکار کردوں تو کیا ہوگا؟‘‘ اس کا جواب تھا:’’وہ بہر حال جیل نہیں  بھیجاجائے گا۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوگاکہ اس  کا کاربار ٹھپ ہو جائے گا۔‘‘ اس نے پھر خود سے سوال کیا :’’کاربار ٹھپ ہوجانے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ اسے جواب ملا :’’مجھے کوئی نئی نوکری تلاش کرنا ہوگی اور کہ کوئی مسئلہ نہیں۔میں تیل کی صنعت کے بارے  میں خاصا علم رکھتا ہوں، کئی فرمیں ایسی ہیں جو مجھے بخوشی ملازمت دینے پر تیار ہو جائیں گی۔‘‘یہ سوچ کر اس نے تین دنوں کے بعد محسوس کیا کہ اس کے دل پر سے خوف کا سایہ ہٹ گیا ہے۔اب وہ  پر سکون ہوکر اس مسئلے کو نئے انداز میں سوچنے لگا: ’’اگر میں اپنے وکیل سے بات کروں تو ہوسکتا ہے کہ وہ  کوئی ایسا راستہ بتا دے جو مجھے معلوم نہیں!‘‘ یہ بات ہو پہلے بھی سوچ سکتا تھا لیکن خوف نے اب تک اس کے ذہن کو مفلوج کر رکھا تھا ۔جب خوف سے نجات مل گئی تو تین دنوں کے بعد وہ سکون سے سویا۔اگلے دن اس نے اپنے وکیل کو ساری بات بتائی ۔ وکیل نے اسے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔ اس نے اٹارنی کے دفتر جاکر یہ سارا واقعہ سنایا۔ اٹارنی اس کی بات سن کر مسکرا دیااور کہنے لگا:’’ ایسا صرف  آپ کے ساتھ نہیں ہوا ۔یہ نوسر بازوں کا ایک باقاعدہ گروہ ہے جو لوگوں کو بلیک میل کرتا ہےاور پولیس کیا اس شخص کی تلاش ہے جس نے آپ کو دھمکی دی تھی۔‘‘ یہ سن کر اس نے محسوس کیا کہ جیسے وہ دوزخ سے واپس جنت میں پہنچادیا گیاہے۔جس خوف نے اسے تین دنوں اور تین راتوں تک ایک عذاب میں مبتلا کیے رکھاتھا، وہ محض ایک اشتہاری جول ساز  کا دیاہوا ڈراوا نکلا!!!

                                                                                                                آپ بھی اگر کسی ایسے خوف یا اندیشے میں مبتلا ہوں تو یہ تین نکاتی فارمولا عمل میں لائیں:

۱) خود سے سوال کریں کہ’’ بد ترین سے بدترین بات کیا ہو سکتی ہے؟‘‘
۲) اس بدترین نتیجے کو ذہنی طور پر قبول کر لیں۔
۳) پھر پرسکون ہوکر اس بدترین خطرے کو ٹالنے کی کوئی تدبیر کریں۔
خوف کسی مصیبت سے نظریں چرانے سے پیدا ہوتاہے۔اگر اس مصیبت کو ذہنی طور پر قبول کر لیا جائے تو خوف تحلیل ہو جاتا ہے اور ذہن صورتحال سے بہتر طور پر نمٹنے کیلئے تیا ر ہو جاتا ہے۔

الجھن
                                                                                                               الجھن(کنفیوژن) وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں آپ کو پوری طرح علم ہی نہیں ہوتا کہ درحقیقت آپ کا مسئلہ ہے کیا۔نہ تو آپ مسئلے کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں اور نہ ہی کوئی فیصلہ کرپاتے ہیں۔ذہن میں کبھی ایک بات آتی ہے اور کبھی دوسری۔آپ بے بس ہوکر سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیتے ہیں اور آپ کی پیشانی پر سلوٹیں نمودار ہو جاتی ہیں۔چونکہ آپ خود مسئلے کو پوری طرح نہیں جانتے ، اس لیے کسی اور سے ذکر کرتے بھی ہیں تو وہ آپ کے بیان کو غیر واضح اور مبہم پاکر کوئی مشورہ دینے سے قاٖصر رہتا ہے۔اس طرح کی الجھن سے نمٹنے کے لیے ان چارباتوں پر عمل کریں:
۱) درپیش مسئلے کے حوالے سے  زیادہ سے زیادہ معلومات اور حقائق اکٹھے کریں۔مسئلے کی چھان بین اس انداز سے کریں جیسے آپ اپنے لیے نہیں بلکہ کسی اور کیلئے معلومات جمع کر رہے ہیں۔یوں آپ غیر جانبدار اور غیر جذباتی ہوکر مسئلے کو زیادہ گہرائی میں جاکر سمجھ سکیں گے۔آپ کو جو معلومات حاصل ہوں،انھیں ایک ترتیب سے کسی کاغذ پر لکھ لیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب آپ کو اصل حقائق کا علم ہو تو سمجھ میں آئے کہ جس بات کو آپ نے اپنا مسئلہ خیال کررہے ہیں ،وہ سرے سے آپ کا دردسر یہ نہیں بلکہ کسی اور کی ذمہ داری ہے۔
۲) جب مسئلے کے حوالے سے سب معلومات اور حقائق سامنے آجائیں تو پھر سوچیں کہ آپ اس کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟ معلومات حاصل ہو جانے کے بعد آپ روشنی میں آجائیں گے اور آپ کا ذہن کوئی فیصلہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ آپ کے ذہن میں مسئلے کے حل کی جو صورتیں آئیں،انھیں بھی ایک ترتیب سے کاغذ پر لکھ لیں۔
۳) اب آپ کو مسئلےکے حل کی تمام ممکن تدبیروں میں سے کسی ایک تدبیر کا انتخاب کرکے اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ہر تدبیر پر اچھی طرح سے غور کریں اور پھر جو تدبیر آپ کے خیال میں سب سے مؤثر اور زیادہ قابل عمل ہو، اسے اپنا فیصلہ بنا لیں۔
۴) جب آپ ایک بار کوئی فیصلہ لے لیں تو پھر سوچنے کا کام ختم کردیں۔اب آپ کو صرف عمل کرنا ہے خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔کسی مسئلے پر ضرورت سے زیادہ سوچ بچارکرنا بھی الجھن کو جنم دیتاہے۔اس لیے اب آپ نے سوچنے کی بجائے اپنے ذہن کو عمل کے لیے یکسو کرنا ہے۔
صدمہ
                                                                                                                                                      صدمہ وہ تکلیف دہ کیفیت ہے جو کسی عزیز شے کے کھوجانے یا کسی بڑے نقصان کے  ظاہر ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی قریبی عزیز فوت ہو جائے یا کاربار  میں اچانک کوئی بڑا نقصان ہوجائے تو انسان پر سکتہ طاری ہوجاتاہے اورشدت غم سے دماغی رگیں پھٹنے کو آجاتی ہیں۔ دل جیسے کسی پہاڑ کے نیچے آگیا ہو، کسی پل قرار نہیں آتا اور نہ دنیا کی کوئی بات اچھی لگتی ہے۔صدمے کی صورت میں فوری طور پر تو عزیز و اقارب کی ہمدردیاں اور دلاسے ہی انسان کو سنبھالتے ہیں۔ اس کیفیت میں آپ کو کچھ کندھوں کی ضرورت ہوتی ہے جن پر سر رکھ کر رویا جاسکے۔صدمے کا فوری ابتدائی علاج (فرسٹ ایڈ) تو آنسو ہی ہیں، تاہم کچھ وقت گزرنے کے بعد انسان خود کو سنبھالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔اس حوالے سے ایک باپ کی روداد بہت سبق آموز ہے جس دو کمسن بیٹیاں ایک ہی سال میں فوت ہو گئیں۔ وہ یہ غم برداشت نہ کر سکا اور انتہائی کرب اور رنجیدگی کی کیفیت سے دو چار ہوگیا۔کھانا اور سونا محال ہوگیا۔اس شخص کے اعصاب بالکل چٹخ گئے تو اس نے معالجوں سے رابطہ کیا۔ ایک معالج نے خواب آور گولیاں تجویز کیں اور دوسرے نے سیرو تفریح۔اس نے ان دونوں پر عمل کیا لیکن صدمے کی حالت زائل نہ ہوئی۔ اولاد کے دکھ نے اسے با لکل نڈھال کر دیا تھا۔پھر ایک روز  ایسا ہوا کہ اس کا چار سالہ بیٹا اس کے ّیا اور کہنے لگا :ابو! مجھے کاغذ کی کشتی  بنا دیں۔ اس نے بچے کو ٹالنے کی کوشش کی مگر وہ بضد رہا۔آخر اس نے بے دلی سے کشتی بنانی شروع کردی۔ اس کوشش میں تین گھنٹے صرف ہو گئے۔ جب وہ کشتی بنا چکا تو اس نے محسوس کیا کہ اس صدمے کا شکار ہونے کے بعد سے یہ پہلے تین گھنٹے تھے جو سکون سے گزرے !وہ سکون جو کسی اور تدبیر سے حاصل نہ ہوسکا تھا۔اس تجربے نے اس شخص کو سوچنے پر مجبور کردیا ۔ اس نے نوٹ کیا کہ اگر انسان کسی کام میں مصروف ہو تو اس کیلئے پریشان ہونا ممکن نہیں رہتا۔اس نے گھر کے ایک ایک کمرے کا جائزہ لیا اور چھوٹے چھوٹے کاموں کی ایک فہرست تیار کی۔ کئی چیزیں قابل مرمت تھیں مثلاً کتابوں کی الماری ،کھڑکیاں، ٹیوی سیٹ کے بٹن،تالے وغیرہ۔اس نے ان کاموں کو ایک ایک کرکے شروع کردیا ، اس دوران کچھ مزید ایسے کام سامنے آتے رہے۔اسی طرح دو برس گزرگئے۔ان دو برسوں میں اس نے خود کو کئی طرح کی سماجی سرگرمیوں میں مصروف کرلیا۔وہ ریڈ کراس  سوسائٹی کا ممبر بن گیا ۔اس نے تعلیم بالغاں کے سکول میں داخلہ لے لیا۔ اب اس کے پاس غمگین ہونے کیلئے وقت ہی نہیں تھا!

                                                                                                                                                     جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کا وزیر اعظم ونسٹن چرچل روزانہ  اٹھارہ گھنٹے کا کام کرتا تھا۔کسی نے سوال کیا کہ کیا وہ اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے پریشان نہیں ہوتا؟ اس نے جواب دیا:’’ میں بہت مصروف رہتا ہوں۔ میرے پاس پریشانیوں کیلئے وقت نہیں ہے۔‘‘ عظیم ساتنسدان لوئی پاسچر اس سکون کا ذکر کیا کرتا تھا جو لا ئبریریوں اور  لیبارٹریوں میں ملتا ہے۔ لا ئبریریوں او ر لیبارٹریوں میں سکون کیوں ہوتا ہے ؟ اس لیے کہ وہاں لوگ اپنی تحقیق و جستجو میں اتنے محو ہو تے ہیں کہ انھیں اپنے غم یاد ہی نہیں رہتے۔ محقق قسم کے افراد شاذو نادر ہی افسردگی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اس ’’عیاشی‘‘ کیلئے وقت ہی نہیں ہوتا!!
                                                                                                                  مصروفیت جیسی معمولی تدبیر کسی طرح بڑے بڑے غموں سے نجات دلادیتی ہے؟ اس کی وجہ علم نفسیات کا دریا فت کردہ ایک قانون ہے کہ :’’انسانی ذہن خواہ کتنا ہی تیز کیوں نہ ہو، ایک وقت میں  ایک سے زیادہ چیزوں کے بارے میں نہیں سوچ سکتا۔‘‘
                                                                                                                                  یہ بات جذبات کے حوالے سے بھی درست ہے ۔آپ کے اندر بیک وقت تحقیق اور کرب کے جذبات نہیں ہوسکتے۔اگر آپ ایک وقت میں کسی کام کے لیے پرجوش ہیں تو عین اس وقت آپ کیلئے کسی ذاتی صدمے کو توجہ دینا ناممکن ہے۔ ایک جذبہ دوسرے جذبے کو نکال باہر کرتا ہے۔اسی لیےفوجی ماہرین نفسیات ایسے سپاہیوں کے لیے ’’کام ‘‘ کو بطور علاج تجویز کرتے ہیں جن پر جنگ کے دنوںمیں صدمہ طاری ہوجاتا ہے۔ مشہور ادیب جارج برنارڈ شا کے بقول:’’کسی غم کا راز یہ ہے کہ آپ کے پاس یہ سوچنے کی فرصت ہو کہ آپ خوش ہیں یا غمگین!‘‘ اس لیے خدانخواستہ آپ کسی صدمے سے دوچار ہیں تو کام سے بہتر آپ کے لیے کوئی سکون بخش دوا نہیں اور یہ دنیا کی سب سے سستی دوا ہے۔
کوفت
                                                                                                                                                                                                            کوفت افسردگی کی وہ صورت ہے جس میں جھنجھلاہٹ اور بدمزگی  کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ یہ بدمزگی  اس وقت پیش آتی ہے جب آپ کی ذات پر بلا جواز تنقید کی جاتی ہے اور آپ کی قابلیت اور صلا حیتوں کے حوالے سے توہین آمیز سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنے بارے میں ناقدانہ رائے سن کر بجھ سے جاتے ہیں اور ان کا سارا جوش وولولہ سرد پڑجاتا ہے۔توہین کا احساس انھیں بے چین کر دیتا ہے ۔وہ بے بسی سے دانت پیستے ہیں اور غصے سےان کا خون کھولنے لگتا ہے۔

              ۱۹۲۹ کا واقعہ ہے ۔ایک امریکی نوجوان رابرٹ ہچنز  برس کی عمر میں اپنی محنت اور لیا قت کی بدولت شکاگو یونی ورسٹی کا صدر منتخب ہوگیا۔اس پر تعلیمی حلقوں میں زلزلہ آگیا۔لوگوں نے اس سفارشی ہونے کی پھبتی کسی۔اس پر کمسن اور ناتجربہ کار ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔اخبارات نے بھی اس کے خلاف توہین آمیز سرخیاں لگائیں۔      رابرٹ کے والدکے ایک دوست  جب اخبارات میں شائع ہونے والی اس شدید تنقید کا ذکر کیا تو رابرٹ کے والد نے جواب دیا:’’ ہاں، یہ سب بہت سخت تبصرے ہیں، لیکن یاد رکھو مردہ کتے کو کبھی کوئی لات نہیں مارا کرتا!‘‘ ۔۔۔جی ہاں ، رابرٹ کے والد بالکل درست کہا۔کتا جتنا قیمتی ہوتا ہے ، اسے لات مارکر لوگوں کو اتنی ہی تسکین ہوتی ہے۔برطانیہ کا چودہ سالہ شہزادہ جسے بعد میں بادشاہ ایڈورڈ ہشتم بننا تھا، جب کالج میں تھا تو لڑکوں ن اس کی پٹائی کردی ۔ تفتیش پر ان لڑکوں نے اعتراف کیا کہ انھوں نے شہزادے کی مرمت اس لیے کی کہ جب وہ بادشاہ بنے تو وہ کہہ سکیں کہ انھوں نے کبھی بادشاہ کی ٹھکائی کی تھی! 

                                                                                                                         اس لیے یاد رکھیں کہ جب آپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اکثر صورتوں میں یہ آپ کی اہمیت کا بالواسطہ اعتراف ہوتا ہے۔ ظاہرہے کہ نا اہل اور تیسرے درجے کے لوگوں پر کوئی تنقید نہیں کیا کرتا۔ بعض لوگ اپنے سے زیادہ تعلیم یافتہ اور کامیاب افراد پر تنقید کرکے وحشیانہ قسم کا لطف حاصل کرتے ہیں۔
                                                                                                            لہٰذا یہذہن میں رکھیں کہ جب آپ پر غیر منصفانہ  تنقید ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کی نظر میں آپ کی کچھ حثیت ہےاور وہ آپ کو قابل توجہ سمجھتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ لوگوں کے منہ بند نہیں کر سکتے، وہ ہر حال میں تنقید کریں گے خواہ  آپ انھیں مطمٔن اور قائل کرنے کی کتنی ہی کوشش کرلیں۔لہٰذا بہتر یہ ہے کہ آپ ایک کام کو اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق انجام کا ڈالیں، اس کے بعد بے نیازی کی چھتری سر پر رکھ کر تنقید کی بارش میں آرام سے چلتے رہیں۔ناقد لوگ دراصل آپ کے اندر پریشانی اور پشیمانی پیدا کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔اگر آپ ان کی تنقید کے جواب میں صرف بے پرواہی سے مسکرا دیں گے تو ان کا یہ ہتھیار الٹا چل پڑے (بیک فائر) گا اور آپ کے بجائےوہ خود پریشان ہوجائیں گے۔
 
                                                                                                                           تاہم یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ پر ہونے والی تنقید  جائز اور درست  بھی ہوسکتی ہے۔آخر آپ انسان ہیں اور آپ کا ہر کام نپا تلا اور کامل(پرفیکٹ) نہیں ہو سکتا۔ آپ کی رائے اور افعال میں غلطیوں کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔اپنے اوپر ہونے والی مثبت تنقید کو تو ہین کے طور  پر نہیں بلکہ تجویز کے طور پر لیں اور اس کی روشنی میں اپنی اصلاح کر لیں۔اپنی اصلاح کا جذبہ رکھنے والے لوگ  مثبت تنقید کے متلاشی ہو ا کرتے ہیں۔ایک  نوجوان صابن بنانے والی مشہورکمپنی میں پام آلو میں سیلز مین تھا ۔ اس نے دیکھا کہ اسے صابن کے آرڈر زیادہ نہیں مل رہے تو اس نے سوچاکہ صابن کے معیار اور قیمت میں تو خرابی نہیں، ضرور اس کی اپنی شخصیت اور انداز میں کوئی نقص ہے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ ان دکانداروں کے پاس گیا جن سے اس نے پہلے صابن کی خریداری کے سلسلے میں رابطہ کیا تھا۔ اس نے فرداً فرداً سب دکانداروں سے کہا:’’ میں آپ کے پاس اب صابن فروخت کرنے نہیں آیا بلکہ یہ جاننے آیا ہوں کہ بطور سیلز مین میرے رویے میں کیا کمی یا نقص ہے۔آپ لوگ مجھ سے زیادہ تجربہ کار اور کامیاب ہیں، اس لیے مجھ پر تنقید کرکے میری رہنمائی کریں کہ ایک اچھا سیلزمین بننے کیلئے مجھے کیسا ہونا چاہیئے؟‘‘ اس طریقہ کار نے اس نوجوان سیلزمین کو بہت نفع دیا اور اسے کئی قیمتی مشورے اور دوست ملے جن کی بدولت وہ ایک دن  اسی پام آلو کمپنی کا  صدر بن گیا۔ لہٰذا مثبت اور جائز تنقید پر کوفت محسوس کرنے کی بجائے اس کا خیر مقدم کریں، کیونکہ یہ آپ کو اوپر اٹھانے میں مدد دے سکتی ہے۔
***************

No comments:

Post a Comment